سپریم کورٹ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس عائشہ ملک نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات دوسرے مرحلے میں کرانے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے وکیل اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہو ئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بینچ نے الیکشن کمیشن کو سنے بغیر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول مؤخر کر دیا، یکم فروری کی سماعت کا نوٹس دو فروری کو موصول ہوا اور الیکشن کمیشن کو نوٹس ملنے تک ہائیکورٹ بلدیاتی انتخابات مؤخر کر چکا تھا۔اس موقع پر وکیل شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ موسمی حالات کے پیش نظر 27 مارچ کو انتخابات نہیں ہو سکتے۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ کے پی میں موسمی حالات الیکشن میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں لہٰذا ہائیکورٹ کو فیصلے سے پہلے الیکشن کمیشن کا مؤقف سننا چاہیے تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کو الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا عدالت نے نہیں، ہائیکورٹ کو فیصلہ دینے کی اتنی جلدی کیا تھی؟

بعد ازاں عدالت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ رمضان کے بعد مقرر کرنے کا حکم دیا تھا اور الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔