شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ میں 7 ماہ جیل میں رہا اور اس دوران ایف آئی اے حکام دو مرتبہ میرے پاس آئے، ایف آئی اے کا جو پلندہ پیش کیا گیا یہ تمام کاغذات لندن میں پیش کیے گیے، انہوں نے دنیا کی مایہ ناز نیشنل کرائم ایجنسی کو یہ دستاویزات دیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایف آئی اے، نیب اور اے آر یو تینوں نے مل کر یہ کاغذات دیے، میں 4 سال غریب الوطنی میں رہا، اگر میرے پاس حرام کا پیسہ ہوتا تو میں پاکستان کیوں آتا، میں واپس آیا لیکن دوسری فلائٹ سے انہوں نے کہا کہ چار سال ہو گئے ہیں حکومت ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکی، میں نے عوام کے 1000 ارب روپے کی بچت کی، میں نے پاکستان کے غریب عوام کی خدمت کی، میں گنہگار آدمی ہوں لیکن یہ کرپشن ثابت نہیں کر سکتے۔واپس بھیج دیا گیا۔