شیری رحمان نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوٹرن خان نے اپنی دوہری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا، مفروضی بیرونی سازش کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کو سفارتی نقصان پہنچایا، نقصان پہنچا کراب کہتے ہیں سائفر کا معاملہ پیچھے رہ گیا، اب الزام نہیں لگاؤں گا۔وفاقی وزیر نے پوچھا کہ عمران خان کے جھوٹے بیانیے سے ملک کو جو سفارتی نقصان ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آڈیو لیک میں ظاہر ہو چکا سائفر کے معاملے پر من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ بنایا گیا، من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ بنا کر اس پر”کھیلنے” کی بھی منصوبہ بندی کی گئی، اب کہہ رہے یہ ماضی کا معاملہ ہے۔

سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ جلسے جلسوں میں اسی بیانیے پر ملکی اداروں کے خلاف الزام لگائے اور نفرت پھیلائی، یہ بیانیے کی دوڑ میں ملک کے مفاد کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، عمران خان اب سائفر کے معاملے سے دستبردار ہونے کی کوشش نا کریں۔

ان کا کہنا تھا یہ 35 پنکچر کا معاملہ نہیں جو بعد میں کہیں گے سیاسی بیان تھا، یہ قومی سلامتی کا معاملہ تھا جس کا عمران خان کو حساب دینا ہو گا، سائفر کے معاملے پر اب یو ٹرن قابل قبول نہیں۔