اس دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اب تو موجودہ درخواست غیرمؤثر ہوگئی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے عدالت کی مداخلت چاہتے ہیں، اس پر جسٹس اطہر نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ صورتحال ایگزیکٹوکے بس سے باہر ہوچکی؟

عدالت نے کہا کہ کیا وفاق کو نہیں معلوم کہ اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرنی ہے؟ سپریم کورٹ انتظامی معاملات میں کیا کرسکتی ہے؟ ریاست طاقتور اور بااختیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں، ملک میں ہنگامہ نہیں امن وامان چاہتے ہیں، مگر ایسا حکم دینا نہیں چاہتے جو قبل از وقت ہو اوراس پرپھرعملدرآمد نہ ہو۔

بعد ازاں عدالت نے عمران خان کےلانگ مارچ کےخلاف درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹادی جب کہ عدالت نے کہا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو نئی درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔