انہوں نے کہا کہ ایک ادارے کے سربراہ کی تقرری کے حوالے سے غلط خبریں چلیں، اس ادارے کا ماضی میں ایک کردار رہا ہے، وہ کردار ماورائے آئین رہا ہے، آج وہ ادارہ آئین کے تحت کردار ادا کرنا چاہتا ہے، آج 75سال بعد اگر ادارہ آئین کے تابع رہنا چاہتا ہے تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

 آرمی چیف کی تقرری سے متعلق خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ آج وزارت دفاع کو وزیراعظم کا خط موصول ہوا ہے اور اس کا جنرل ہیڈکوارٹرز کو بتا دیا گیا ہے، دو تین روز میں تمام مرحلہ مکمل ہوجائے گا اور یہ ہیجان ختم ہوجائے گا، اس کے بعد عمران خان کے ساتھ بھی دو ہاتھ کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران توشہ خانے کے تحفے پہلے بیچتا تھا اور پھر پیسے سرکار کو دیتا تھا، عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے 15 سال پلاننگ کی گئی، یہ ایک شرمناک داستان ہے، صرف سیاستدان نہیں پاور اسٹرکچر کے تمام ذمہ داران ملوث رہے ہیں