جنرل باجوہ نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہ کی کہ اس طرح کی مداخلتیں فوج کی ذمہ داریوں کے دائرے سے باہر ہیں، اور انہوں نے اسے [مداخلتوں کو] نہ صرف فوج کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا بلکہ غیر آئینی بھی کہا۔ تاہم، انہوں نے اپنے ادارے کی اس بات کی توثیق کی کہ فوج اب مزید ایسے اقدامات نہیں کرے گی اور سیاست سے دور رہے گی۔

بعض نے اسے گورباچوف کا لمحہ بھی قرار دیا کہ دیکھیں کیسے ایک آرمی چیف گزشتہ کئی دہائیوں میں پیدا ہونے والے گند کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ ادارہ مستقبل میں ایسا نہیں کرے گا۔