یہ ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا جاندار ہوسکتا ہے۔

اس کا جسم اس طرح پھیلا ہوا ہوتا ہے جیسے کسی دھاگے یا رسی کو مختلف دائروں میں گھما کر رکھا ہوا ہے۔

اس جاندار کے جسم پر موجود لاتعداد ریشے پانی میں چھوٹے جانداروں کے لیے موت کی دیوار کا کام کرتے ہیں۔

اس جاندار کی دریافت ایک اتفاق کا نتیجہ تھی کیونکہ Schmidt Ocean Institute سے تعلق رکھنے والے سائنسدان سمندری تہہ میں موجود زندگی پر تحقیق کررہے تھے اور اس دوران وہ جیلی فش جیسے جاندار کے پاس پہنچے۔

ان کی آبدوز جیسی submersible واپس تحقیقی بحری جہاز کی جانب جارہی تھی اور اردگرد کے براہ راست مناظر کی فوٹیج بن رہی تھی جب انہوں نے اس جاندار کو دیکھا۔