ذرائع کا کہنا ہےکہ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے 20 دسمبر تک اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ ارکان نے فوری اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

ذرائع کے مطابق ارکان نے رائے دی کہ سیاسی کارڈز کھیلتے ہوئے ٹائمنگ کو مد نظر رکھا جائے، اسمبلیوں کی تحلیل تب کی جائے جب وفاق اوردیگرصوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکے، اس وقت حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے اربوں روپے مالیت کے ٹیندرز ہوچکے ہیں اور متعدد حکومتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیںذرائع نے بتایاکہ کمیٹی کی سفارشات پرپارلیمانی بورڈز کے اجلاسوں کے بعدتاریخ کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔