وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ اور اتحادیوں کی مشاورت چل رہی ہے، پنجاب اورکے پی اسمبلی ٹوٹنے پربلوچستان اور سندھ میں تو الیکشن نہیں ہوگا، مرکز میں تو نگران حکومت نہیں ہوگی، اسمبلی توڑنے کا عمل غیر سیاسی اور غیرجمہوری عمل ہے، اگرعمران کے پی اور پنجاب اسمبلی توڑتے ہیں تو آئین قانون کے مطابق ہوگا، پہلے قومی اسمبلی کے استعفے کی آکر تصدیق کریں، الیکشن کا بائیکاٹ، اسمبلی توڑنا کسی سیاسی جماعت یا ملک کے لیے  سود مند ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ امن چاہتے ہیں ان کو راستہ دیا جانا چاہیے، سکیورٹی معلامات وفاقی حکومت کی نظر میں ہیں، عوام کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں، مکمل کنٹرول کیا جارہا ہے، بات آگے بڑھی تو آپریشن وقت پر ہوگا، دیرنہیں ہوگی، آپریشن تو روز ہورہے ہیں جو طاقتور آپریشن ہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھاکہ الیکشن کے لیے پوری طرح تیار ہیں، گورنر راج اور  عدم اعتماد آئینی طریقے ہیں اور یہ استعمال ہوسکتے ہیں