منیجر نے کہا کہ جنرل اسپتال میں ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض لیٹے ہوئے تھے اور افضال صاحب کو بھی ایک مریض کے ساتھ لٹا دیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ  25 سال پہلے افضال احمد کو جسم کے دائیں حصے پر فالج ہوا تھا وہ بول نہیں سکتے تھے اور نہ چل سکتے تھے۔

منیجر کےمطابق بہن کے امریکا سے آنے کے بعد افضال احمد کی تدفین کل کی جائے گی جب کہ ان کے سوگواران میں تین بیٹیاں ہیں جوبیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔