چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں انہیں عدالتی حکم کا علم ہی نہیں تھا، 25 مئی کو حالات کشیدہ تھے، 25 مئی کو مظاہرین کسی کے کنٹرول میں نہیں تھے، عمران خان خود نہیں آئے لیکن اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا ضرور کہا۔

عدالت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی نیت ڈی چوک آنے کی ہی تھی، پی ٹی آئی نے عدالت کو یقین دہانی کرا کے رضامند کیا کہ راستے کھلوائے جائیں اور راستے کھلوانے کے بعد پی ٹی آئی اپنی یقین دہانی سے مکر کر ڈی چوک آ گئی۔

جسٹس اعجاز نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی،  اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی،اس لیے اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو وہ بھی بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے خلاف ہی ہوگی۔