نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مونس الہٰی کا کہنا تھا کہ مارچ اور اپریل کے درمیان سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے موقع پر انہیں (پرویز الہٰی کی زیر قیادت ق لیگ والوں کو) جنرل باجوہ نے مشورہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حمایت کریں۔

اگرچہ مونس الہٰی نے یہ بیان جنرل باجوہ کو پی ٹی آئی والوں کی تنقید سے بچانے کے لیے دیا ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے نے جو کچھ کہا اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ رواں سال اپریل تک غیر سیاسی نہیں تھی۔

مونس الہٰی کا اصرار تھا کہ جس وقت پی ٹی آئی والے جنرل باجوہ پر سخت تنقید کر رہے تھے اس وقت یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے اُس دریا کا رخ موڑنے کی کوشش کی جو پی ٹی آئی والوں کو بہا لے جا رہا تھا۔

تاہم جنرل (ر) باجوہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی نے سابق آرمی چیف کے حوالے سے جو کہا ہے وہ ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘ تشریح ہے۔