اس پر جسٹس اسجد جاوید نے استفسار کیا کہ کیا اس کی انکوائری کی گئی کہ آڈیو لیک کیسے ہوئی؟ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ نہیں پتا کہ آڈیو کیسے لیک ہوئی؟

عدالت نے کہا کہ اس واقعے کی انکوائری تو ہونی چاہیے، کیا آڈیو لیک میں سب کو انکوائری میں شامل کیا گیا ، سب کو شامل کیا گیا یا صرف عمران خان سے انکوائری ہورہی ہے۔

عمران خان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی بنیادوں پر کیسز کے لیے ایف آئی اے کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہماری استدعا ہے کہ یہ بدنیتی دیکھی جانی چاہیے،  ہمیں اس معاملے میں ایف آئی آر کا خطرہ ہے، ابھی تو ایف آئی اے کا یہ نوٹس معطل ہونا چاہیے۔