کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کراچی میں ایک ماہ میں 54 افراد قتل ہوئے ہیں، شہر میں خواتین اور بچوں کے لیے سیفٹی کا کوئی انتظام نہیں، سیف سٹی پروجیکٹ کہاں ہے وہ کیمرے کہاں لگے ہیں؟

ان کا کہنا تھا شہر میں پولیس کی ملی بھگت کے بغیر جرم پنپ نہیں سکتا، اسٹریٹ کرائم بڑھنے کی وجہ پولیس کی سرپرستی ہے، پولیس میں 80 فیصد بھرتیاں مقامی افراد کی ہونی چاہئیں، جن اداروں میں مقامی افراد کو نوکریاں ملنی چاہئیں وہاں بھی مقامی لوگ نہیں، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی کہہ دیا پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے۔