وکیل الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی تحفہ یا آئٹم توشہ خانہ سے ملکیت بنایا جائے اور ظاہر نہ کیا جائے، عمران خان کا توشہ خانہ کا طریقہ کارمنی لانڈرنگ والا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ تحائف کی رقم کیا کسی اور نے ادا کی یا کیش میں دی گئی؟ 11 ملین کا جو ٹیکس بنتا تھا اس کو چھپایا گیا لیکن وہ معاملہ ٹیکس اتھارٹیزکا ہے، عمران خان کے 2017/18 اور 2020/21 کے گوشوارے درست ہیں لیکن 2018/19 اور 2019/20 کے گوشوارے متنازع ہیں، 2021 میں کچھ رقم کوظاہرکیا گیا جسے اس سے پچھلے 2 سال میں ظاہرنہیں کیا گیا۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کی عمران خان کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 15 دسمبر کو دوپہر 2 بجے سنایا جائے گا۔