پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی کے خلاف پرائیوٹ افراد نے مقدمات درج کرائے تھے، قانون کے مطابق ان افراد کا بیان قلم بند کرنےکے پابند تھے، ان معاملات کو قانون کے مطابق دیکھا جائےگا۔

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اعظم سواتی کی کسٹڈی اسلام آباد منتقل کردی گئی ہے اور ان کے خلاف مقدمات سی کلاس کردیےہیں لہٰذا تمام درخواستیں اب غیر موثر ہوچکی ہیں۔

اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئی جی سندھ نے اچھا کام کیا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل کے بیان پر جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ سندھ حکومت اور آئی جی سندھ نے اس معاملےکو حل کیا ان کو کریڈٹ جاتا ہے، اعظم سواتی کےخلاف سندھ میں کوئی اور مقدمہ نہیں ہونا چاہیے۔