وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جنہوں نے عمران خان کو سہارا دیا وہ اس محسن کو بھی گالیاں دیتے ہیں، اگر آپ حکومت چلا نہیں سکے تو اس میں جنرل باجوہ کا کیا قصور ہے، جنرل باجوہ نے آپ کو ہر قدم پر سہارا دیا، آپ کو جب ضرورت ہوتی تھی وہ اسمبلی میں آتے تھے،  جس نے آپ پر احسان کیا ہو اور آپ گالیاں نکالیں، اس سے گھٹیا بات ہونہیں سکتی۔

انہوں  نے مزید کہا کہ عدالتیں اگر مرضی کے مطابق کام کریں تو ان کو پسند ہے، اسٹیبلشمنٹ غیر مشروط ساتھ دے تو دن رات وہ تعریف کرتے ہیں، اگر ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کریں تو گالیاں دیتا ہے، جن پر تکیہ کیا ہوا تھا ان کی اپنی بھی سیاست ہے، تحفظات ہیں،  انہوں نے کبھی ڈوبتے ہوئے لوگوں کا ساتھ نہیں دیا، یہ ان کی تاریخ ہے۔