سابق بھارتی کرکٹر نے مودی کی تصویر شیئر کرنے کے ساتھ ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ نا تو مرد لگ رہا ہے اور نا ہی عورت لگ رہی ہے، یہ صرف فیشن کا بچاری ہے۔

کرتی آزاد کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا اور بھارتی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما کی جانب سے سابق بھارتی کرکٹر کو آڑتے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا گیا کہ کرتی آزاد نے صرف بھارتی وزیراعظم کی توہین نہیں کی بلکہ انہوں نے میگھالیہ کی ثقافت کی توہین کی ہے اور قبائلی لباس کی بے ادبی کی ہے