غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ’لیزا‘ نامی ایک خاتون نے کمیٹی کے نام پر 364 ڈالرز کی رقم ادھار لے رکھی تھی تاہم کمیٹی گروپ کے لوگوں  کی جانب سے بار بار رقم کے مطالبے پر لیزا نے  20 نومبر کو رقم کی ادائیگی کا وعدہ کیا۔

لیکن وہ مقررہ تاریخ پر  رقم کا بندوبست نہ کرسکی جس کے بعد اس نے پہلے اپنے قرض کی تاریخ میں توسیع مانگی جس پر اسے گروپ اراکین نے 6 دسمبر تک کا مزید وقت دے دیا۔

جب یہ وقت بھی قریب آیا تو خاتون کے بیٹے نے فیس بک پر اس کی المناک موت کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اس کی کفن میں لپٹی لاش کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

لیزا کے بیٹے نے فیس بک پر اپنی ماں کی میت کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا ایک افسوناک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا ہے۔

لیزا کی موت کی خبر سن کر کمیٹی کے گروپ ممبرز کو بہت دکھ ہوا لیکن پھر وہ اس بات پر شک میں مبتلا ہوگئے کہ اس کے بیٹے نے تدفین کے لiے جس مقام کا اعلان کیا وہ ان کے گھر سے کافی دور تھی۔

بعدازاں معاملے کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ  انہوں نے پیسے واپس نہ کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا ہے۔