وزیر اعلیٰ پنجاب نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی سے مکمل طور پر ہمیشہ فاصلہ رکھا ہے تاکہ تحقیقات کے نتائج تحریک انصاف کی قیادت کی توقعات کے مطابق نہ آنے کی صورت میں وہ خود کو اتحادی جماعت پی ٹی آئی کے الزامات سے بچا سکیں۔

باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل تک جے آئی ٹی کی معاونت کرنے والوں تک، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کسی بھی معاملے میں مداخلت نہیں کی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنی پسند کے جے آئی ٹی ارکان لگانے کی اجازت دی ہے۔

روزِ اول سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی عمران خان کی جانب سے قاتلانہ حملے میں نامزد کیے جانے والے افراد کے ناموں سے متفق نہیں تھے۔ ق لیگ کے ایک ذریعے سے جب رابطہ کیا گیا تو وہ پی ٹی آئی کے ’’سازشی نظریات‘‘ سے پریشان نظر آئے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، یہ لوگ خود کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔