عدالت کے سوال پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جواب دے دیا ہے، 1973 میں توشہ خانہ وزارت خارجہ امور سےکیبنٹ ڈویژن کو ٹرانسفر ہوا،  یہ تحائف کسی پاکستانی شہری نے نہیں دیے ہوتے۔عدالت نے سوال کیا کہ جب تحائف فروخت ہوجاتے ہیں تو پھر کلاسیفائیڈ کیسے ہیں؟ اگرحلف نامہ آئےکہ یہ کلاسیفائیڈ معلومات ہیں تو عدالت پھر اسے ڈس کلوز نہیں کرے گی، ہوسکتاہے عدالت لائن کھینچ دےکہ یہ معلومات دینی ہے او یہ نہیں دینی، متعلقہ محکمےکےحلف نامے میں وجوہات دیں کہ یہ معلومات کلاسیفائیڈکیسے ہیں