جی ہاں سائنسدانوں نے انسانی عمر بڑھنے کی رفتار سست کرنے کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے اور وہ اس راز کو جاننے کے قریب پہنچ گئے ہیں کہ کس طرح انسانی حیاتیاتی گھڑی کی رفتار سست کرکے لوگوں کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔

دہائیوں سے سائنسدانوں کی جانب سے انسانی غذا کی مقدار میں کمی کو اوسط عمر میں اضافے کے لیے اہم خیال کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے متعدد کلینیکل ٹرائلز کے نتائج بھی حوصلہ افزا رہے۔

مگر امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج بہت اہمیت کے حامل ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ غذائی مقدار میں کمی لاکر انسانوں کے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ بنیادی طور پر پہلا کنٹرول کلینیکل ٹرائل تھا جس میں دن بھر کی کیلوریز میں کمی لانے سے طویل المعیاد بنیادوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

کولمبیا یونیورسٹی میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین کے 2 سال تک جاری رہنے والے اس ٹرائل میں 21 سے 50 سال کی عمر کے 220 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے 2 گروپس بنائے گئے۔